گورنر راج کے خلاف پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے بلوچستان بھر میں احتجاجی مظاہرے

کوئٹہ میں خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے خلاف پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کا احتجاجی مظاہرہ

کوئٹہ (سید سردار محمد خوندئی): پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے زیر اہتمام خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ کے خلاف بلوچستان کے مختلف اضلاع میں احتجاجی مظاہرے اور جلسے منعقد کیے گئے۔ مظاہرین نے گورنر راج کے اقدام کو غیر قانونی، غیر آئینی اور غیر جمہوری قرار دیتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی۔

بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں مرکزی احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ احتجاجی ریلی شہر کی مختلف شاہراہوں سے گزرتی ہوئی جلسہ عام میں تبدیل ہوگئی، جس میں پارٹی کارکنوں اور رہنماؤں نے شرکت کی۔

جلسے سے پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے رہنما نواب ایاز خان جوگیزئی، پارٹی کے ڈپٹی چیئرمین عبدالرحیم زیارتوال، ڈاکٹر حامد خان اچکزئی، کبیر افغان اور دیگر صوبائی و مرکزی رہنماؤں نے خطاب کیا۔

مقررین نے اپنے خطاب میں خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ کو غیر قانونی، غیر آئینی اور غیر جمہوری اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ اس فیصلے کی بھرپور مذمت کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا میں قائم جمہوری حکومت کو راتوں رات ختم کر دیا گیا، جو جمہوری اصولوں اور عوامی مینڈیٹ کے منافی ہے۔

پارٹی رہنماؤں نے زور دیا کہ جمہوری اداروں اور آئینی اصولوں کا احترام کیا جانا چاہیے اور سیاسی معاملات کو جمہوری طریقے سے حل کیا جانا چاہیے۔

مقررین نے سابق وزیراعظم عمران خان کی فوری رہائی کا مطالبہ بھی کیا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے خاتمے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں اور صوبے میں جمہوری نظام کی بحالی کو یقینی بنایا جائے۔

کوئٹہ کے علاوہ چمن، پشین، قلعہ سیف اللہ، قلعہ عبداللہ اور بلوچستان کے دیگر اضلاع میں بھی پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے زیر اہتمام احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔

مظاہرین نے خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ کے خلاف اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے پارٹی قیادت کے مطالبات کی حمایت کی۔ احتجاجی سرگرمیوں کے ذریعے پارٹی نے صوبے میں گورنر راج کے خاتمے، عمران خان کی رہائی اور جمہوری اصولوں کے احترام کا مطالبہ دہرایا۔

پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے رہنماؤں نے اپنے مؤقف میں کہا کہ آئین کی بالادستی، جمہوری اقدار اور عوامی مینڈیٹ کا تحفظ ضروری ہے۔ انہوں نے متعلقہ حکام پر زور دیا کہ سیاسی مسائل کو آئینی اور جمہوری طریقہ کار کے مطابق حل کیا جائے۔

Related posts

Leave a Comment